میرے حصے میں ہے تقصیر کی ذمہ داری
اور ملی ہے اسے تعزیر کی ذمہ داری
شہر کا شہر ہے تخریب کے کاموں میں مگن
چند کاندھوں پہ ہے تعمیر کی ذمہ داری
لوگ تقدیر کے پہلو سے لگے بیٹھے تھے
میں اٹھا لایا ہوں تدبیر کی ذمہ داری
دل نے جو بات چھپانی ہو اسی کی بابت
لی ہے کیوں آنکھ نے تشہیر کی ذمہ داری
لوگ سیلاب کی لہروں میں بہے جاتے ہیں
اس پہ بس جیسے ہے تصویر کی ذمہ داری
جو ہمیں خواب دکھانے کے لیے آتا ہے
کیوں اٹھاتا نہیں تعبیر کی ذمہ داری
کوئی کرتا ہی نہیں اس کو ملامت کہ سعید
سب کو معلوم ہے زنجیر کی ذمہ داری
